لِبِریول  (نینڈرولون/میتھینڈریول آمیزہ)

تعارف:۔

لِبریول (Libriol)جانوروں میں انجکشن کی شکل میں استعمال ہونے والی آسٹریلوی دوا ہے جو میھینڈریول ڈائی پروپیونیٹ اور نینڈرولون فینائل پروپیونیٹ پر مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ دونوں سٹیرائیڈز اس میں بالترتیب 45ملی گرام فی ملی لیٹر اور 30ملی گرام فی ملی لیٹر کے حساب سے موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح سٹیرائیڈ کی مجموعی مقدار 75ملی گرام فی ملی لیٹر بن جاتی ہے۔ میتھینڈریول اور نینڈرولون کا آمیزہ ہونے کی وجہ سے لِبریول کی گروہ بندی اوسط درجہ کے طاقتور اینابولک اور معمولی درجہ کے اینڈروجینک سٹیرائیڈ کے طور پر کی جاتی ہے۔ میتھینڈریول جزو کی وجہ سے یہ کچھ حد تک ایسٹروجینک خصوصیات کا حامل بھی ہے۔ اس پروڈکٹ کو Ranvetکمپنی کی دوا Tribolin کی تیز رفتاری سے کام کرنے والی شکل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ یہ وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں ہے لیکن یہ پٹھوں کے حجم میں اضافہ کرنے والی ایک موثر دوا ہے جو پٹھوں کے حجم میں بہت زیادہ کی بجائے خالص اضافہ کا سبب بنتی ہے ۔

پس منظر:۔

لِبرول RWRویٹرینری پروڈکٹس (جو پہلے Nature Vetکی ذیلی کمپنی ہوا کرتی تھی) ، کی پروڈکٹ ہے جو صرف آسٹریلیا میں فروخت کی جاتی ہے ۔ یہ مخصوص طور پر گھوڑوں اور عموماً دوڑ میں حصہ لینے والے اُن گھوڑوں میں استعمال کی جاتی ہے  جنہیں بحالی یا عمومی صحت اور کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔  دوا میں موجود اشتراک جانوروں کے پٹھوں میں خالص اضافہ، جسم میں مائع کی مناسب مقدار کو برقرار رکھنے اور خوراک سے لمحیات (پروٹین) کے ہاضمہ اور اس کی توڑ میں بہتری لانے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے ۔ تقریباً 1100 پاؤنڈ(500کلو گرام)وزنی گھوڑے کے لیے عمومی خوراک 5ملی لیٹر (350ملی گرام ) ہے جو عموماً ہر دو ہفتے بعد استعمال کی جاتی ہے ۔ پہلے سے سٹیرائیڈز کے اشتراک پر مبنی اس دوا نے تاریخی طور پر  باڈی بلڈر ز اور کھلاڑیوں کی بہت زیادہ توجہ حاصل کی اور منفرد فارمولا کی بنا پر ایک وقت میں بلیک مارکیٹ میں بہت  مہنگی فروخت ہوتی رہی ۔

لِبریول  آسٹریلیا میں کئی سالوں سے دستیاب ہے اور کھیلوں میں ادویات کے استعمال کی جانچ کے بارے میں آگاہی اور قانونی طور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کی طرف سےاس طرح کی ادویات متعارف کرانے میں ہچکچاہٹ کے باوجود یہ دوا آج بھی دستیاب ہے ۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ RWR نے طویل عرصہ سے استعمال ہونے والے نام اینڈریول کو ترک کردیا اور اس پروڈکٹ کا ایک اور نیا نام RWR 4 Fillies رجسٹر کروایا۔ اس طرح نینڈرولون /میتھینڈرولون پر مشتمل وہی دوا آسٹریلوی مارکیٹ میں اب بھی ان ڈاکٹروں کے لیے دستیاب ہے جو لِبریول کو ایک موثر اینابولک /طاقت کی دوا کے طور اعتماد کے ساتھ استعمال کرتے آئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سخت قوانین کے نفاذ کے بعد اس با ت کے کم امکانات ہیں کہ RWR 4 Fillies پروڈکٹ کی کوئی زیادہ مقدار کو کھلاڑیوں کی طرف سے استعمال کیا جائے گا۔ سٹیرائیڈ کی فی ملی لیٹر کم مقدار اور آج کی مارکیٹ میں مقابلے کے سخت رجحان کی وجہ سے یہ پروڈکٹ آج اتنی مقبول نہیں ہے جتنی پہلے ہوا کرتی تھی۔

کس طرح فراہم کی جاتی ہے؟

لِبریول آسٹریلیا میں جانوروں کی ادویات کی مارکیٹ میں دستیاب ہے اور آج کل RWR 4 Fillies کے نام سے فروخت ہوتی ہے ۔ اس میں سٹیرائیڈ کی مقدار 75ملی گرام فی ملی لیٹر ہوتی ہے اور یہ تیل میں حل شدہ حالت میں ہوتا ہے ۔ یہ دوا 10ملی لیٹر کی وائل کی شکل میں آتی ہے۔

ساختی خصوصیات:۔

انفرادی سٹیرائیڈز نینڈرولون فینائل پروپیونیٹ اور میتھینڈریول ڈائی پروپیونیٹ پر جامع بحث کے لیے ان کے متعلقہ پروفائل ملاحظہ فرمائیں۔

(ایسٹروجینک) مضر اثرات:۔

میتھائل اینڈروسٹین ڈائی اول کی جسم میں براہ راست ایروماٹائزیشن نہیں ہوتی تاہم اس کا ایک میٹابولائٹ میتھائل ٹیسٹوسٹیرون ہے جس کی ایروماٹائزیشن ہوتی ہے۔ میتھائل اینڈرسٹین ڈائی اول ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میتھائل اینڈروسٹین ڈائی اول میں کچھ قدرتی ایسٹروجینک سرگرمی ہے۔ 1نینڈرولون جس کی اپنی ایروماٹائزیشن زیادہ  تیزی سے نہیں ہوتی ، کے ساتھ اشتراک میں استعمال کرنے پر لبرول کو ایک کمزور یا اوسط درجہ کا ایسٹروجینک سٹیرائیڈ تصور کیا جاتا ہے ۔ دورانِ علاج گائینیکو میسٹیا (چھاتی کے بڑھ جانے ) جیسے مضر اثرات ممکن ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب اس کی زیادہ مقدار استعمال کی جائے۔ پانی اور چربی کا ذخیرہ ہونا بھی ایک مسئلہ کی شکل میں سامنے آسکتا ہے لیکن ایک بار پھر اس کا انحصار بھی لی جانے والی مقدار پر ہوتا ہے ۔حساس افراد کو نولواڈیکس جیسے اینٹی ایسٹروجن کا استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مضر اثرات کو کم سےکم کیا جاسکے ۔

(اینڈروجینک) مضر اثرات:۔

اگرچہ اسے اینابولک سٹیرائیڈ تصور کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے استعمال سے اینڈروجینک مضر اثرات سامنے آنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ ان میں جلد میں تیل کا زیادہ پیدا ہونا، کیل مہاسے اور جسم/چہرے پر بالوں کا اگنا وغیرہ کے امکانات ہوتے ہیں ۔ وہ مرد جن میں بالوں کا گرنا وراثتی خصوصیات میں شامل ہو (اینڈروجینک ایلوپیشیا) ان میں بالوں کے گرنے کی رفتار تیز ہوجائے گی ۔ عورتوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ ان کی طرف سے اینابولک/اینڈروجینک  سٹیرائیڈز کے استعمال سے ان میں ممکنہ طور پر مردانہ خصوصیات ظاہر ہوسکتی ہیں خاص طور پر طاقتور اینڈروجن جیسا کہ ٹیسٹوسٹیرون وغیرہ استعمال کرنے سے۔ ان علامات میں آواز کا بھاری پن ، ماہواری میں بے قاعدگیان، جلد کی بناوٹ میں تبدیلیاں ، چہرے پر بالوں کا اگنا اور کلائٹورس کا بڑھ جانا وغیرہ شامل ہیں ۔

  مضر اثرات(جگر کا زہریلا پن):۔

میتھائل اینڈروسٹین ڈائی اول C-17 الفا الکائلیٹڈ مرکب ہے ۔ یہ تبدیلی اس مرکب کو جگر کی توڑ پھوڑ سے محفوظ رکھتی ہے اور اس طرح منہ کے راستے  استعمال کرنے پر دوا بہت بڑی مقدار خون تک پہنچتی ہے۔ C-17 الفا الکائلیٹڈ اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز جگر میں زہریلا پن پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔ طویل عرصہ تک یا زیادہ مقدار استعمال کرنے سے جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔بعض صورتوں میں جگر کے فعل میں مہلک قسم کی خرابی واقع ہوسکتی ہے ۔ یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ سٹیرائیڈز کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران وقفے وقفے سے ڈاکٹر کے پاس جایا جائے تاکہ جگر کے فعل اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا جاتا رہے۔ C-17الفا الکائلیٹڈ سٹیرائیڈز کا استعمال عموماً6تا8 ہفتوں تک محدود رکھا جاتا ہے تاکہ یہ جگر پر زیادہ تناؤ کا باعث نہ بنے۔ انجکشن کی شکل میں استعما ل کرنے کی صورت میں جگر پر کم تناؤ پڑتا ہے کیوں منہ کے راستے استعمال ہونے والی خوراک کی طرح اسے جگر میں سے نہیں گزرنا پڑتا۔ لیکن اس کے باوجود جگر کا زہریلا پن پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

جگر کا زہریلا پن پیدا کرنے والا اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز کے استعمال کے دوران جگر کا زہریلا پن ختم کرنے والے غذائی اجزاءجیسا کہ لِوَر سٹیبل ، لِو۔52 یاایسنشیل فورٹ کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے ۔

(نظام دوران ِ خون ) پر مضر اثرات :۔

اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز سیرم میں موجود کولیسٹرول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ان مضر اثرات میں HDL(اچھے) کولیسٹرول لیول میں کمی کا سبب بننا اور LDL(بُرے) کولیسٹرول میں اضافہ کا سبب بننا شامل ہیں جس کے نتیجے میں HDLاور LDL کے توازن میں اس طرح کی تبدیلی آتی ہے جو صلابت شریان (یعنی خون کی نالیوں میں لوتھڑے بننے کے امکانات) میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔ سیرم میں لپڈز کی  مقدار پر اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کا اثر اس کی استعمال ہونے والی مقدار، استعمال کے راستہ (منہ کے راستے یا انجکشن کی شکل میں)، سٹیرائیڈ کی قسم  (ایروماٹائزیبل یا نان ایروماٹائزیبل) اور جگر کی طر ف سے کی جانے والی توڑ پھوڑ کے خلاف مزاحمت پر منحصر ہوتا ہے ۔ میتھائل اینڈروسٹین ڈائی اول ایروماٹائزیشن کے عمل سے نہ گزرنے اور اپنے طریقہ استعمال کی بنیاد پر جگر کی طرف سے توڑ پھوڑ کے خلاف ساختی مزاحمت رکھتا ہے۔  اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز بلڈ پریشر اور  ٹرائی گلائسرائیڈز پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یہ شریانوں کی اندرونی تہہ کے پھیلاؤ میں کمی لاتے ہیں اور دل کے بائیں وینٹریکل کے حجم میں اضافہ میں معاونت کرتے ہیں ۔ یہ سب عوامل نظام دوران خون کے عارضہ جات اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں ممکنہ طور پر اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔

نظام دورانِ خون پر تناؤ میں کمی لانے کے لیے یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ نظام دورانِ خون کے لیے مفید اور فعال ورزش پروگرام برقرار رکھا جائے اور اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز(AAS) کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران سیر شدہ روغنیات، کولیسٹرول اور سادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال  کم کردیا جائے۔ علاوہ ازیں مچھلی کا تیل (4گرام فی یوم) اور قدرتی کولیسٹرول /اینٹی آکسیڈنٹ فارمولا جیسا کہ لپڈ سٹیبل یا اس سے ملتی جلتی پروڈکٹ کا استعمال بھی تجویز کیا جاتا ہے ۔

مضر اثرات(قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار میں کمی) :۔

جب کسی بھی اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈ کو پٹھوں کی نشونما کے لیے ضروری موزوں مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے وہ ٹیسٹوسٹیرون کی قدرتی پیداوار کو روک دے گا۔ ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کو تحریک دینے والی ادویات کے استعمال کے بغیر 1تا4ماہ کے اندر اس کا نارمل لیول بحال ہوجانا چاہیئے۔ ۔ نوٹ فرمائیں کہ سٹیرائیڈز کے بے جا /غلط استعمال کے نتیجے میں جنسی ہارمونز کی کمی واقع ہوسکتی ہے جس کے لیے علاج معالجہ ضروری ہوجاتا ہے ۔

مذکورہ بالا مضر اثرات حتمی نہیں ہیں ۔ سٹیرائیڈز کے ممکنہ مضر اثرات پر مزید تفصیل کے لیے اس کتا ب کا سیکشن سٹیرائیڈز کے مضر اثرات ملاحظہ فرمائیں۔

  استعمال (مردوں میں):۔

لِبریول انسانوںمیں استعمال کے لیے منظور نہیں کیا گیا ۔ استعمال سے متعلق ہدایات دستیاب نہیں ہیں ۔ جسمانی بناوٹ یا کارکردگی میں اضافہ کے لیے اس کی عمومی خوراک کی حد 225ملی گرام (3سی سی) تا 450ملی گرام (6سی سی) فی ہفتہ ہوتا ہے ۔ یہ مقدارچربی یا پانی کا ذخیرہ پیدا کیے بغیر پٹھوں کے خالص حجم میں اضافہ کا سبب بنتی ہے ۔ استعمال ہونے والے ایسٹرز کے تیز رفتاری سے کام کرنے کی وجہ سے کل ہفتہ وار خوراک کو 2یا 3حصوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔

استعمال (خواتین میں):۔

لِبریول انسانوںمیں استعمال کے لیے منظور نہیں کیا گیا ۔ استعمال سے متعلق ہدایات دستیاب نہیں ہیں ۔ میھائل اینڈروسٹین ڈائی اول پرمشتمل ادویات کا خواتین میں جسمانی بناوٹ یا کارکردگی میں اضافہ کے لیے استعمال تجویز نہیں کیا جاتا جس کی وجہ ان کا طاقتور اینڈروجینک ہونا اور مردانہ خصوصیات جیسے مضر اثرات پیدا کرنے کا رجحان رکھنا ہے ۔

دستیابی :۔

لِبریول (RWR 4 Fillies)بلیک مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ آسٹریلیا میں سٹیرائیڈز کی تقسیم /فراہمی پر سخت قوانین کا اطلاق ہے ۔

1 Inhibition of the estrogenic activity of methylandrostenediol following administration of aminopterin. Boll Soc Ital Biol Sper. 1955 SepOct;31(9-10):1280-4.