میتھائل۔1۔ٹیسٹوسٹیرون (میتھائل ڈائی ہائیڈروبولڈینون)
وضاحت/تفصیل:
میتھائل۔1۔ ٹیسٹوسٹیرون (میتھائل ڈائی ہائیڈرو بولڈینون) منہ کے راستے استعمال ہونے والا اینابولک سٹیرائیڈ ہے جو ڈائی ہائیڈروٹیسٹوسٹیرون سے اخذ شدہ ہے۔ ساخت کے لحاظ سے یہ 1۔ٹیسٹوسٹیرون (ڈائی ہائیڈروبولڈینون) کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے ، اور اس سے اس کا واحد فرق C-17الکائلیشن ہے (جس کی وجہ سے اس سٹیرائیڈ کی سرگرمی میں بہت زیادہ تبدیلی واقع ہوتی ہے) ۔ یہ مرکب جسے مختصراً M1Tکہتے ہیں، کو پرائموبولان، وِنسٹرول اور ٹرینبولون کا ایک قسم کا انضمام کہا جاسکتا ہے۔ پرائموبولان کی طرح اس کی ساخت 1۔اِین ، جسم میں اس کی دستیابی منہ کے راستے استعمال ہونے والے میتھائلیٹڈ سٹیرائیڈ وِنسٹرول کی طرح اور اس کی طاقت مصنوعی طاقت ور اینابولک اور اینڈروجینک مرکب ٹرینبولون کی طرح ہے۔ کیے گئے معیاری تجربات کے مطابق، میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون کی طاقت فی الوقت فروخت ہونے والےدیگر تمام نسخہ جاتی اینابولک سٹیرائیڈز کی نسبت زیادہ ہے۔ باڈی بلڈر حضرات میں یہ پٹھوں کے حجم میں اضافہ کا سبب بننے والے طاقت ور مرکب کے طور پر مشہور ہے جو پٹھوں کے حجم اور طاقت میں نہایت تیزی کے ساتھ اضافہ کرتا ہے جس کے ساتھ کچھ حد تک پانی اور چربی کا ذخیرہ بھی ہوتا ہے۔
پس منظر:
میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون پہلی بار 1962میں متعارف کرایا گیا تھا ۔ 1 یہ مرکب سٹیرائیڈز پر ہونے والی تحقیق کے کچھ نہایت فعال سالوں کےدوران تیار ہوا تھا جب دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے سینکڑوں مختلف اینابولک مرکبات پر تحقیق جاری تھی اور ان کا کھوج لگایا جارہا تھا ۔ اگرچہ میتھائل۔1۔ٹیسٹوسٹیرون پر کی جانے والی کچھ تحقیقات کے نتائج مثبت آئے جس میں یہ ایک طاقت ور اور قابل قبول اینابولک /اینڈروجینک نسبت کا حامل مرکب پایا گیا مگر زیادہ تر مرکبات کی طرح اسے کبھی دوا کی شکل نہ دی گئی۔ جیسا کہ ادویات سازی کے شعبہ کے مختلف حصوں میں ہوتا ہے، مرکبات کی ایک مخصوص تعداد پر تحقیق کے لیے ڈالر فراہم کیے گئے اور بالآخر انہیں دوا کی شکل دی گئی جب کہ باقی سب کو نظر انداز کردیا گیا ۔میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون بھی کچھ وجوہات کی بنا پر ان مخصوص مرکبات میں سے نہیں تھا جو دوا کی شکل میں تیار ہوکر فارمیسی تک پہنچیں اور تقریباً سال تک یہ طب کی کتابوں میں خوابیدہ پڑا رہا۔
یہ مرکب 2003میں دوبار ہ اس وقت منظر عام آیا جب یہ بغیر نسخہ کے غذائی جزو کے طور پر امریکہ میں متعارف کرایا گیا ۔ بغیر نسخہ دوا کے طور پر اس لیے فروخت کیا جاتا رہا کیوں کہ 1991میں اینابولک مرکبات سے متعلق قوانین لکھتے ہوئے اس مرکب کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اس لیے اسے اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ۔ پروڈکٹ مارکیٹ میں Legal Gear کی طرف سے متعارف کرائی گئی اور جلد ہی بہت مقبول ہوگئی جس کی وجہ اس کا بہت زیادہ موثر ثابت ہونا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی بہت سی مقامی دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے نقل کی گیا۔ میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون امریکہ میں زیادہ عرصہ تک برقرار نہ رہ سکا اور جلدہی اسے ممنوع مرکبات کی فہرست شامل کیا گیا۔ یہ قوانین 20جنوری 2005 کو نافذ العمل ہوئے جس کےبعد اس سٹیرائیڈ کو اپنے پاس رکھنے یا آگے
تقسیم کرنے پر وہی سزائیں نافذ ہوگئیں جو دیگر اینابولک سٹیرائیڈز کے لیے تھیں۔ اس کے نتیجے میں میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون مارکیٹ سے مکمل طور پر ختم ہوگیا اور یہ مرکب ایک بار پھر اب پوری دنیا میں باڈی بلڈرز کو دستیاب نہیں ہے۔
فراہمی:
میتھائل۔1۔ٹیسٹوسٹیرون پر مشتمل اب کوئی نسخہ جاتی دوا دستیاب نہیں ہے۔ جب یہ بغیر نسخہ کے دستیاب غذائی جزو کی شکل میں تھا تو یہ منہ کے راستے استعمال ہونے والے کیپسولز اور گولیوں کی شکل میں دستیاب ہوتا تھا۔
ساختی خصوصیات:
میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون دراصل ڈائی ہائیڈروٹیسٹوسٹیرون سے اخذ شدہ ہے ۔ اس میں (1 C-17الفا پر میتھائل گروپ کا اضافہ جو منہ کے راستے استعمال کرنے پر ہارمون کو محفوظ رکھتا ہے اور (2 کاربن نمبر 1اور 2کے درمیان ڈبل بانڈ کا تعارف جو 3۔کیٹو گروپ کو مستحکم کرنے میں مدد دیتا ہے اور سٹیرائیڈ کی اینابولک خصوصیات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔
(ایسٹروجینک) مضر اثرات:
اگرچہ اس پر تحقیق نہیں کی گئی لیکن یہی کہا جاتا ہے کہ جسم میتھائل۔1۔ٹیسٹوسٹیرون کی ایروماٹائزیشن نہیں کرتا۔ تاہم یہ چیز نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ مرکب قدرتی طور پر ممکنہ پروجیسٹیشنل سرگرمی کا حامل ہے۔ پروجیسٹیرون کے مضر اثرات ایسٹروجن کے مضراثرات جیسے ہیں جن میں ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کو روکنے کے لیے منفی فیڈ بیک اور چربی کے ذخیرہ ہونے کی شرح میں اضافہ شامل ہیں۔
پروجیسٹنز چھاتی کے ٹشوز کی نشونما پر ایسٹروجنز کے تحریکی اثر میں اضافہ کرتے ہیں ۔ یہاں ان دونوں ہارمونز کے درمیان ایک طاقتور ربط ہے جس کی وجہ سے گائینیکو میسٹیا جیسے مضر اثرات صرف پروجیسٹنز کی مدد سے اور اضافی ایسٹروجن لیولز کے بغیر بھی وقوع پذیر ہوسکتے ہیں۔ اینٹی ایسٹروجن جو اس عارضہ کے ایسٹروجینک جزو کو روکتا ہے ، اکثر اوقات پروجیسٹیشنل اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز سے پیدا ہونے والے گائینیکو میسٹیا پر قابو پانے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
(اینڈروجینک) مضرا ثرات:
اگرچہ اسے اینابولک سٹیرائیڈ تصور کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس مرکب کو استعمال کرنے پر اینڈروجینک مضر اثرات پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ ان میں جلد کی چکناہٹ میں اضافہ ، کیل مہاسے اور جسم /چہرے پر بالوں کی نشونما کا ہونا شامل ہیں ۔ اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز مردوں میں گنجے پَن کے عوامل میں بگاڑ کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔ عورتوں کو اضافی طور پر اینابولک/اینڈڑوجینک سٹیرائیڈز کی وجہ سے ممکنہ مردانہ خصوصیات کے پیدا ہونے کے امکانات کے بارے میں بھی متنبہ کیا جاتا ہے ۔ ان میں آواز کا بھاری پن، ماہواری میں بے قاعدگیاں ، جِلد کی ساخت میں تبدیلیاں ، چہرے پر بالوں کا اگنا اور کلائٹورس کا بڑھ جانا شامل
ہیں ۔ اس کی کم اینڈروجینک صلاحیت اسے بظاہر خواتین کے لیے قابل قبول مرکب بناتی ہے تاہم (حقیقت میں) اس کے طاقت ور ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ میتھائل۔1۔ ٹیسٹوسٹیرون بنیادی طور پر اینابولک خصوصیت کا حامل ہے تاہم اگر اسے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو طاقت ور اینڈروجینک مضر اثرات کے پیدا ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں اس لیے اسے احتیاط سے زیر غور لایا جانا چاہیئے۔ نوٹ فرمائیں کہ 5۔الفا ریڈکٹیز کا میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے اس کے استعمال کے بعد فیناسٹیرائیڈ یا ڈیوٹاسٹیرائیڈ کے استعمال سے اس کی اینڈروجینک سرگرمی متاثر نہیں ہوتی۔
مضر اثرات (جگر کا زہریلا پن):
میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون C-17الفا الکائلیٹڈ مرکب ہے ۔ یہ تبدیلی اس دوا کو جگر کی طرف سے غیر فعال ہونے سے بچاتی ہے اور منہ کے راستے استعمال کرنے پر اس دوا کی بہت بڑی مقدار خون میں پہنچ جاتی ہے ۔ C-17الفا الکائلیٹڈ اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز جگر کے زہریلے پن کا سبب بن سکتے ہیں۔ طویل عرصہ تک یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے پر جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ کچھ صورتوں میں مہلک صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ تجویز یہی کیا جاتا ہے کہ اس سٹیرائیڈ کو استعمال کرنے کے ہر سائیکل کے دوران ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے تاکہ جگر کے فعل اور مجموعی صحت کی نگرانی کی جاسکے ۔c17الفا الکائلیٹڈ سٹیرائیڈ کو عام طور پر 6تا8ہفتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جگر پر تنا ؤ سے بچا جاسکے۔
جگر کے زہریلے پن کا سبب بننے والے اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کے استعمال کے دوران جگر کے زہریلے پن کو ختم کرنے والے غذائی اجزا جیسا کہ لِوَر سٹیبِل، لِو۔52 یا ایسنشیل فورٹ کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے ۔
(نظام دورانِ خون پر ) مضراثرات:۔
اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز سیرم میں موجود کولیسٹرول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ان مضر اثرات میں HDL(اچھے) کولیسٹرول لیول میں کمی کا سبب بننا اور LDL(بُرے) کولیسٹرول میں اضافہ کا سبب بننا شامل ہیں جس کے نتیجے میں HDLاور LDL کے توازن میں اس طرح کی تبدیلی آتی ہے جو صلابت شریان (یعنی
خون کی نالیوں میں لوتھڑے بننے کے امکانات) میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔ سیرم میں لپڈز کی مقدار پر اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کا اثر ان کی استعمال ہونے والی مقدار، استعمال کے راستہ (منہ کے راستے یا انجکشن کی شکل میں)، سٹیرائیڈ کی قسم (ایروماٹائزیبل یا نان ایروماٹائزیبل) اور جگر کی طر ف سے کی جانے والی توڑ پھوڑ کے خلاف مزاحمت پر منحصر ہوتا ہے ۔ اگرچہ انسانوں میں میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال سے متعلق بہت زیادہ تحقیق نہیں کی گئی تاہم منہ کے راستے استعمال ہونے، بہت زیادہ طاقت ور اور اس کی ایروماٹائزیشن کم یا بالکل نہ ہونے کی وجہ سے یہ مرکب لپڈز کی مقداروں میں منفی تبدیلی لانے اور خون کی نالیوں میں لوتھڑے بننے کے خطرہ میں بہت زیادہ اضافہ کرتا ہے ۔ اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز بلڈ پریشر اور ٹرائی گلائسرائیڈز پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یہ شریانوں کی اندرونی تہہ کے پھیلاؤ میں کمی لاتے ہیں اور دل کے بائیں وینٹریکل کے حجم میں اضافہ میں معاونت کرتے ہیں ۔ یہ سب عوامل نظام دوران خون کے عارضہ جات اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں ممکنہ طور پر اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔
نظام دورانِ خون پر تناؤ میں کمی لانے کے لیے یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ نظام دورانِ خون کے لیے مفید اور فعال ورزش پروگرام برقرار رکھا جائے اور اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز(AAS) کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران سیر شدہ روغنیات، کولیسٹرول اور سادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کردیا جائے۔ علاوہ ازیں مچھلی کا تیل (4گرام فی یوم) اور قدرتی کولیسٹرول /اینٹی آکسیڈنٹ فارمولا جیسا کہ لپڈ سٹیبل یا اس سے ملتی جلتی پروڈکٹ کا استعمال بھی تجویز کیا جاتا ہے ۔2
مضر اثرات(قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار میں کمی) :۔
جب کسی بھی اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈ کو پٹھوں کی نشونما کے لیے ضروری موزوں مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے وہ ٹیسٹوسٹیرون کی قدرتی پیداوار کو روک دیں گے۔ ۔ ٹیسٹوسٹیرون کو تحریک دینے والی ادویات کےاستعمال کے بغیر 1سے 4ماہ کے اندر اس کا لیول نارمل سطح پر آجانا چاہیئے۔ نوٹ فرمائیں کہ سٹیرائیڈز کے بے جا /غلط استعمال کے نتیجے میں جنسی ہارمونز کی کمی واقع ہوسکتی ہے جس کے لیے علاج معالجہ ضروری ہوجاتا ہے ۔
مذکورہ بالا مضر اثرات حتمی نہیں ہیں ۔ سٹیرائیڈز کے ممکنہ مضر اثرات پر مزید تفصیل کے لیے اس کتا ب کا سیکشن “سٹیرائیڈز کے مضر اثرات” ملاحظہ فرمائیں۔
استعمال (عمومی):۔
سٹیرائیڈز کو تجویز کرنے سے متعلق ہدایات کے مطابق منہ کے راستے استعمال کیے جانے والے سٹیرائیڈز کو کھانے کے ساتھ یا اس کے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ جسم میں اس کی دستیابی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ تاہم 2016میں نوزائیدہ بچوں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئے کہ اگر آکسینڈرولون کو براہ راست روغنیات (MCT Oil) میں حل کردیا جائے تو اس کے انجذاب میں کافی حدتک بہتری آتی ہے۔
2اگر خوراک میں روغنیات کی موزوں مقدار موجود ہو تو اس سٹیرائیڈ کو کھانے کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔
استعمال (مردوں میں):
میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون مردوں میں استعمال کے لیے کبھی منظور نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے استعمال سے متعلق تجویزی ہدایات موجود نہیں ہیں۔ جسمانی بناوٹ یا کارکردگی میں اضافہ کے لیے منہ کے راستے استعمال ہونے والی موثر خوراک عمومی طور پر 5-10ملی گرام کی حد میں ہوگی جسے 4تا 6ہفتوں کے عرصہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ بعض اوقات 20ملی گرام خوراک بھی استعمال کی جاتی ہے لیکن اس سے مضراثرات کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔
بہت سے استعمال کنندگان محسوس کرتے ہیں کہ جب وہ 10ملی گرام یومیہ استعمال کرتے ہیں تو بہتر محسوس کرتے ہیں اور اگر طاقت ور اثر کی ضرورت ہوتو اسے انجکشن کی شکل میں موجود ٹیسٹوسٹیرون سِپیونیٹ کے ساتھ اشتراک میں استعمال کرتے ہیں ۔ اس صورت میں ٹیسٹوسٹیرون سِپیونیٹ کی لی جانے والی خوراک 200-400ملی گرام فی ہفتہ ہوتی ہے۔ صرف میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کی بجائے یہ اشتراک جگر کے زہریلے پن میں کمی کا باعث بنتا ہے اور اینڈروجینک کے مقابلے میں بہتر اینابولک اثرات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ جب میتھائل۔1۔ٹیسٹوسٹیرون کو اکیلے استعمال کیا جاتا ہے تو عام طور پر سامنےآنے والی شکایت تھکاوٹ ہے جس کی ایک وجہ اس مرکب کا کم اینڈروجینک یا ایسٹروجینک ہونا ہے۔ ایروماٹائزیشن کے عمل سے گزرنے والے اینڈروجن جیسا کہ ٹیسٹوسٹیرون وغیرہ کے ساتھ اشتراک میں استعمال کرنے سے یہ شکایت ختم ہوجائے گی۔ نوٹ فرمائیں کہ اگرچہ بہت کم استعمال کنندگان 20ملی گرام فی یوم سے تجاوز کرتے ہیں تاہم یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اس طرح کے طاقت ور سٹیرائیڈ کی یہ مقدار بھی سنگین مضراثرات کا سبب بن سکتی ہےجسے اس کی افادیت یا زہریلے پن کے حوالے سے آسان نہیں لیا جاسکتا۔ ایناڈرول کی طرح میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون ضروری طور پر دوستانہ سٹیرائیڈ نہیں ہے لیکن بلاشبہ یہ ایک موثر سٹیرائیڈ ہے ۔
استعمال (خواتین میں):
میتھائل ۔1۔ٹیسٹوسٹیرون انسانوں میں استعمال کے لیے کبھی منظور نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے استعمال سے متعلق تجویزی ہدایات موجود نہیں ہیں۔ اس کے زیادہ طاقت ور ہونے اور مردانہ خصوصیات جیسے مضر اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسے خواتین میں جسمانی بناوٹ یا کارکردگی میں اضافہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
دستیابی:
میتھائل۔1۔ٹیسٹوسٹیرون نسخہ جاتی دوا کے طور پر تیار نہیں کیا جارہا۔ فی الوقت یہ خفیہ سٹیرائیڈ پروڈکٹ کے طور پر دستیاب ہے ۔
1 Counsell R. E., Klimstra P.D. et al. J.Org. Chem. 27,248 (1962)
2 Congenit Heart Dis. 2016 Jun 3. Use of Oxandrolone to promote Growth in Neonates following Surgery for Complex Congenital Heart Disease: An Open-Label Pilot Trial.Burch PT, Spigarelli MG et al.
