اورل ٹیورینابول (کلورڈی ہائیڈرو میتھائل ٹیسٹوسٹیرون )
وضاحت /تفصیل:
کلوروڈی ہائیڈرو میتھائل ٹیسٹوسٹیرون، ڈیانابول کا ایک طاقت ور ماخذ ہے۔ منہ کےراستے استعمال ہونےوالا سٹیرائیڈ ہے ۔ منہ کے راستے استعمال ہونے والا یہ سٹیرائیڈ ساخت کے لحاظ سے میتھینڈروسٹینولون اور کلوسٹیبول (4کلوروٹیسٹوسٹیرون) کا آمیزہ دکھائی دیتا ہے ۔ اس کی بنیادی ساخت ڈیانابول کی طرح کی جب کہ کی گئی 4کلورو ترمیم کلوسٹیبول کی طرح کی کی ہے ۔ یہ ترمیم کلورو ڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کو ڈیانابول کے قریب کردیتا ہے۔ ڈیانابول ایک نیا سٹیرائیڈ ہے جو کوئی ایسٹروجینک سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کرتا اور اس کی اینڈروجینک سرگرمی کلورو ڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن اس کی اینابولک سرگرمی ڈیانابول کے مقابلے میں کچھ حد تک کم ہے تاہم یہ اینابولک اور اینڈروجینک اثر کے درمیان ایک موزوں توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹھوں کی نشونما کی سرگرمی کے دوران کسی بھی مرحلہ پر کلورو ڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی طرف سے اینڈروجینک مضر اثرات پیدا ہونے کے امکانات کم ہوں گے ۔
پس منظر:
کلورو ڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون سب سے 1962میں متعارف کرایا گیا ۔ 1 اس کے بعد جلد ہی Jenapharm (Jena, Germany) نے اس دوا کو مشرقی جرمنی کی ادویات کی مارکیٹ میں باقاعدہ دوا کے طور پر فروخت کے لیے پیش کیا جہاں اس کا برانڈ نام Oral Turinalbol تھا۔ یہ دوا چونکہ بہت زیادہ اینابولک اور کم اینڈروجینک خصوصیت کی حامل ہے جس کی بنا پر اسے نہ صرف بالغ مردوں میں بلکہ خواتین اور بچوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پروڈکٹ کو دو مختلف مقداروں میں تیار کیا گیا تھا ۔ایک گولی میں 1ملی گرام جب کہ دوسری میں 5ملی گرام سٹیرائیڈ موجود تھا۔ کم مقدار کی حامل گولی زیادہ حساس افراد کے لیے تیار کی گئی تھی۔ کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کے بہت سے طبی استعمالات ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پٹھوں کے خالص ٹشوز اور ہڈیوں کے حجم میں اضافہ یا اسے برقرار رکھنے سے ہے ۔
اورل ٹیورینابول 1990کی دہائی کے دوران اس وقت تنازعہ کا شکار ہوا جب یہ انکشاف ہوا کہ کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون ”ایسٹ جرمن ڈوپنگ مشین“ کے اہم رازوں میں سے ایک تھا۔ اس میں ریاست کے تعاون سے چلنے والے ڈوپنگ پروگرام “State Plan Research Theme 14.25,” کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ جو1974تا1989 کے درمیان مشرقی جرمنی میں کام کرتارہا۔ یہ اینابولک سٹیرائیڈز کے بے تحاشہ استعمال کا پروگرام تھا جسے ذہن میں صرف ایک مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا تھا کہ : اولمپک کے ادویات کے جانچ کے عمل کو دھوکا دینا۔ بہت سی صورتوں میں اولمپک کھلاڑی جن میں خواتین اور مرد شامل تھے، اس بارے میں ناواقف تھے (کہ وہ سٹیرائیڈز کا استعمال کررہے ہیں)۔ ان کے ٹرینر اور کوچ انہیں بتارہے تھے کہ انہیں صرف وٹامن دیئے جارہے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے نیلے رنگ کے وٹامن دراصل Oral Turinabol تھا جو کہ ایک طاقت ور اینابولک سٹیرائیڈ جس کی (ان دنوں) شناخت نہیں کی جاسکتی تھی۔ جب ریاست کا یہ پروگرام فعال تھا تو ان دنوں میں تقریباً 10,000کھلاڑیوں کو اینابولک سٹیرائیڈ ز دیے گئے جن میں سے زیادہ تر Oral Turinabol استعمال
(ایسٹروجینک ) مضر اثرات:۔
جسم کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی ایروماٹائزیشن نہیں کرتا اور یہ زیادہ ایسٹروجینک خصوصیات کا حامل نہیں ہے ۔ اس سٹیرائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے اینٹی ایسٹروجن استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیوں کہ
کررہے تھے ۔ اس تاریخی واقعہ کی مزید گہرائی میں جانے بشمول مشرقی جرمنی کے کئی سرکاری حکام جو اس کا حصہ تھے ، کی جانچ کرنے سے پہلے ، میری آپ کو یہی تجویز ہے کہ آپ سٹیون انگر لیڈر کی کتاب “Faust’s Gold: Inside the East German Doping Machine” کا مطالعہ کریں ۔
سرگرمی کے کافی حد تک موزوں پروفائل اور محفوظ ہونے کے باوجود Jenapharm نے 1994میں Oral Turinabol کی پیداوار بند کردی۔ یہ وہ وقت تھا جب کھیلوں میں ادویات کے استعمال سے متعلق بہت زیادہ منفی توجہ دی جارہی تھی جس کے نتیجے میں یہ قیاس آرائی کی گئی کہ دوا کو بند کرنے کا یہ فیصلہ مالیات یا صحت سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے تعلقات عامہ کارفرما تھے۔ تاہم ، 1996میں Jenapharmکمپنی Schering Ag (Germany) نے حاصل کرلی۔ یہ ایک ایسی کمپنی جو اپنے ماضی کے تنازعات سے پیچھا چھڑانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی (Schering نے پہلے ہی اپنی بہت سی متنازعہ سٹیرائیڈ پروڈکٹس کی تیاری بند کردی تھی)۔ اس سے پہلے یا اس وقت سے لے کرکلوروڈی ہائیڈرو میتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی کوئی برانڈ موجو د نہیں تھی ۔ یہ مرکب آج بھی موجود ہے لیکن صرف چند خفیہ تیار کنندگان یا ان کی طرف سے تیار کیا جاتا ہے جو اسے برآمد کرتے ہیں ۔
فراہمی:
کلوروڈی ہائیڈرو میتھائل ٹیسٹوسٹیرون نسخہ جاتی دوا کے طور پر دستیاب نہیں۔ جب یہ تیار کیا جاتا تھا تو یہ 1اور5ملی گرام کی گولیوں کی شکل میں دستیاب ہوتا تھا اور جرمنی /عوامی جمہوریہ جرمنی میں فروخت ہوتا تھا۔
ساختی خصوصیات:
کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون دراصل ٹیسٹوسٹیرون کی ترمیم شدہ شکل ہے اور درج ذیل بنیادوں پر اس سےمختلف ہے: (1کاربن 17۔الفا پر میتھائل گروپ کا اضافہ جو ہارمون کو منہ کے راستے استعمال کرنے پر محفوظ رکھتا ہے (2کاربن نمبر 1اور2 کے درمیان ڈبل بانڈ (1۔اِین) متعارف کرانا جو اینابولک /اینڈروجینک نسبت میں اس طرح کی تبدیلی لاتا کہ یہ مرکب زیادہ اینابولک سرگرمی کا حامل ہوجاتا ہے اور (3کاربن نمبر4کا کلورو گروپ کا شامل ہونا جو سٹیرائیڈ کی ایروماٹائزیشن کے عمل کو روکتا ہے اور اس کی اینڈروجینیسٹی میں کمی لاتا ہے ۔
مرکب/مادہ کی نشاندہی :۔
کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی شناختROIDTEST
TM کے سبسٹانس ٹیسٹس B&C کی مدد سے با آسانی کی جاسکتی ہے ۔ سبسٹانس ٹیسٹ C میں اس کا رنگ فوری طور پر (1منٹ سے کم وقت میں)گہرے لال میں تبدیل ہوجانا چاہیئے۔ سبسٹانس ٹیسٹ B کی صورت اسے فوری طور پر نارنجی رنگ میں تبدیل ہوجانا چاہیے۔
پھوڑ کے خلاف مزاحمت پر منحصر ہوتا ہے ۔جگر کی طرف سے توڑ پھوڑ کے خلاف اپنی ساختی مزاحمت، نان ایروماٹائزایبل نوعیت اور طریقہ استعمال کی وجہ سے کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون جگر کی طرف سے کولیسٹرول پر قابو پانے کی صلاحیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز بلڈ پریشر اور ٹرائی گلائسرائیڈز پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یہ شریانوں کی اندرونی تہہ کے پھیلاؤ میں کمی لاتے ہیں اور دل کے بائیں وینٹریکل
حساس افراد میں بھی گائینیکو میسٹیا (چھاتی کا بڑھ جانا) کا مسئلہ سامنے نہیں آتا۔ چونکہ (خلیات) میں پانی کے جمع رہنے کی اہم وجہ ایسٹروجن ہے ، یہ سٹیرائیڈ (آکسینڈرولون) اس کے برعکس پٹھوں کے خالص حجم میں اضافہ کرتا ہے اور بناوٹ میں خوبصورتی لاتا ہے اور زیر جلد اضافی مائع کے جمع ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ سٹیرائیڈ تربیت /ورزش کے اس مرحلہ کے دوران موزوں ہوتا ہے جب پانی اور چربی کے جمع ہونے جیسے مسائل باعث تشویش ہوں۔
(اینڈروجینک )مضراثرات
اگرچہ اسے اینابولک سٹیرائیڈ تصور کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس کے استعمال سے اینڈروجینک مضر اثرات سامنے آنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ ا ان میں جلد کی چکناہٹ میں اضافہ ، کیل مہاسے اور جسم /چہرے پر بالوں کی نشونما کا ہونا شامل ہیں ۔مجوزہ مقدار سے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے ان مضراثرات کے سامنے آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز مردوں میں گنجے پَن کے عوامل میں بگاڑ کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔ عورتوں کو اضافی طور پر اینابولک/اینڈڑوجینک سٹیرائیڈز کی وجہ سے ممکنہ مردانہ خصوصیات جیسے مضر اثرات کے پیدا ہونے کے امکانات کے بارے میں بھی متنبہ کیا جاتا ہے ۔ ان میں آواز کا بھاری پن، ماہواری میں بے قاعدگیاں ، جِلد کی ساخت میں تبدیلیاں ، چہرے پر بالوں کا اگنا اور کلائٹورس کا بڑھ جانا شامل ہیں ۔ کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی 5۔الفا ریڈکٹیز انزائم کی مدد سے زیادہ توڑ پھوڑ نہیں ہوتی اس لیے فیناسٹیرائیڈ یا ڈیوٹاسٹیرائیڈ کے استعمال سے اس کی اینڈروجینسٹی میں زیادہ فرق نہیں آتا۔
مضراثرات (جگر کا زہریلاپن):۔
کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون C17۔الفا الکائلیٹڈ مرکب ہے ۔ یہ تبدیلی اسے جگر کی طرف سے غیر فعال ہونے سے بچاتی ہے جس کے بعد اسے منہ کے راستے استعمال کرنے پر اس کی بہت بڑی مقدار خون تک پہنچ جاتی ہے ۔ C-17الفا الکائلیٹڈاینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز جگر کے زہریلے پن کا باعث بن سکتے ہیں ۔ زیادہ عرصہ تک یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی صورت میں جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ کچھ صورتوں میں مہلک عارضہ جات سامنے آسکتے ہیں۔ تجویز یہی کیا جاتا ہے کہ اس سٹیرائیڈ کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران وقتاً فوقتاًً ڈاکٹر کے پاس جایا جائے تاکہ جگر کے فعل اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا جاتا رہے۔ C-17الفا الکائلیٹڈ سٹیرائیڈز کے استعمال کا دورانیہ عام طور پر 6-8ہفتوں تک محدود ہوتا ہے تاکہ جگر پر تناؤ سے بچا جاسکے۔
جگر کے زہریلے پن کا باعث بننے والے اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کواستعمال کرتے ہوئے لِور سٹیبل، لِو۔52 یا ایسنشیل فورٹ جیسے اجزاء جو جگر کے زہریلے پن کو ختم کرتے ہیں ، کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے ۔
(نظام دورانِ خون پر مضر اثرات):۔
اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز سیرم میں موجود کولیسٹرول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ان مضر اثرات میں HDL(اچھے) کولیسٹرول لیول میں کمی کا سبب بننا اور LDL(بُرے) کولیسٹرول میں اضافہ کا سبب بننا شامل ہیں جس کے نتیجے میں HDLاور LDL کے توازن میں اس طرح کی تبدیلی آتی ہے جو صلابت شریان (یعنی خون کی نالیوں میں لوتھڑے بننے کے امکانات) میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔ سیرم میں لپڈز کی مقدار پر اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کا اثر اس کی استعمال ہونے والی مقدار، استعمال کے راستہ (منہ کے راستے یا انجکشن کی شکل میں)، سٹیرائیڈ کی قسم (ایروماٹائزیبل یا نان ایروماٹائزیبل) اور جگر کی طر ف سے کی جانے والی توڑ
کے حجم میں اضافہ میں معاونت کرتے ہیں ۔ یہ سب عوامل نظام دوران خون کے عارضہ جات اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں ممکنہ طور پر اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔
نظام دورانِ خون پر تناؤ میں کمی لانے کے لیے یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ نظام دورانِ خون کے لیے مفید اور فعال ورزش پروگرام برقرار رکھا جائے اور اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز(AAS) کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران سیر شدہ روغنیات، کولیسٹرول اور سادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کردیا جائے۔ علاوہ ازیں مچھلی کا تیل (4گرام فی یوم) اور قدرتی کولیسٹرول /اینٹی آکسیڈنٹ فارمولا جیسا کہ لپڈ سٹیبل یا اس سے ملتی جلتی پروڈکٹ کا استعمال بھی تجویز کیا جاتا ہے ۔
مضر اثرات(قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار میں کمی) :۔
جب کسی بھی اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈ کو پٹھوں کی نشونما کے لیے ضروری موزوں مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے وہ ٹیسٹوسٹیرون کی قدرتی پیداوار کو روک دیں گے۔ ۔ ٹیسٹوسٹیرون کو تحریک دینے والی ادویات کےاستعمال کے بغیر 1سے 4ماہ کے اندر اس کا لیول نارمل سطح پر آجانا چاہیئے۔ نوٹ فرمائیں کہ سٹیرائیڈز کےبے جا /غلط استعمال کے نتیجے میں جنسی ہارمونز کی کمی واقع ہوسکتی ہے جس کے لیے علاج معالجہ ضروری ہوجاتا ہے ۔
مذکورہ بالا مضر اثرات حتمی نہیں ہیں ۔ سٹیرائیڈز کے ممکنہ مضر اثرات پر مزید تفصیل کے لیے اس کتا ب کا سیکشن “سٹیرائیڈز کے مضر اثرات” ملاحظہ فرمائیں۔
استعمال (عمومی):۔
سٹیرائیڈز کو تجویز کرنے سے متعلق ہدایات کے مطابق منہ کے راستے استعمال کیے جانے والے سٹیرائیڈز کو کھانے کے ساتھ یا اس کے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ جسم میں اس کی دستیابی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ تاہم 2016میں نوزائیدہ بچوں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئے کہ اگر آکسینڈرولون کو براہ راست روغنیات(MCT Oil) میں حل کردیا جائے تو اس کے انجذاب میں کافی حدتک بہتری آتی ہے۔
2
اگر خوراک میں روغنیات کی موزوں مقدار موجود ہو تو اس سٹیرائیڈ کو کھانے کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
استعمال (مردوں میں):
کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی طبی استعمال میں عمومی مقدار اندازاً5ملی گرام یومیہ ہے لیکن اس کے استعمال سے متعلق حقیقی ہدایات دستیاب نہیں ہیں۔ کھلاڑیوں کی طرف سے منہ کے راستے استعمال کی جانے والی اصل مقدار کی حد 15تا40ملی گرام ہے جسے سائیکلز کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا دورانیہ 6تا8ہفتوں سے زائد عرصہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا تاکہ جگر کے زہریلے پن سے اجتناب کیا جاسکے۔ یہ مقدار پٹھوں کے حجم میں خالص اضافہ اور طاقت کے لیے کافی ہے۔ باڈی بلڈنگ کے لیے اس سٹیرائیڈ کو اکثر اوقات مقابلے سے پہلے یا جسمانی بناوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کم ایسٹروجینک صلاحیت کی وجہ سے اسے پٹھوں کے حجم میں اضافہ کے لیے کوئی مثالی مرکب تصور نہیں کیا جاتا۔ ایسے کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی جہاں دوڑنے کی ضرورت ہو، وہ کلوروڈی ہائیڈرو میتھائل ٹیسٹوسٹیرون کو ایک موزوں مرکب تصور کرتے ہیں جو اضافی پانی یا چربی جمع کیے بغیر بہت زیادہ اینابولک فائدہ پہنچاتا ہے ۔
استعمال (خواتین میں):
کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی طبی استعمال میں عمومی مقدار اندازاً12.5ملی گرام یومیہ ہے لیکن
اس کے استعمال سے متعلق حقیقی ہدایات دستیاب نہیں ہیں۔ کھلاڑی خواتین عمومی طور پر 5ملی گرام کی ایک گولی یومیہ استعمال کرتے ہیں جسے سائیکلز کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے اور 4تا6 ہفتوں سے تجاوز نہیں کیا جاتا تاکہ جگر کے زہریلے پن سے اجتناب کیا جاسکے ۔ اس مقدار میں استعمال کرنے پر مردانہ خصوصیات جیسے مضر اثرات کے امکانات نہیں ہیں۔ سابقہ GDRڈوپنگ پروگرام میں خواتین کھلاڑیوں کو اس کی بہت زیادہ مقدار استعمال کرائی جاتی تھی لیکن اس کے نتیجے میں مردانہ خصوصیات جیسے طاقت ور مضر اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
دستیابی :
کلوروڈی ہائیڈرومیتھائل ٹیسٹوسٹیرون نسخہ جاتی دوا کے طور پر جرمنی میں 1994 سے عدم دستیاب رہا ہے۔ (اس کی زیادہ تر پیداوار جرمنی میں ہوتی رہی ہے)۔ تاہم اس کے بعد سے مشرقی یورپ اور ایشیا کی دوا ساز کمپنیوں نے اس کی فروخت شروع کی ۔ موجودہ کچھ دستیاب پروڈکٹس اور عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ پر مرتب ہونے والی کچھ تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے درج ذیل مشاہدات کیے ہیں۔
Balkanفارماسیوٹیکلز (مالدووا) ایک پروڈکٹ Turanabol تیار کرتی ہے۔ یہ 10ملی گرام کی گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے اور ایک کاغذ اور پلاسٹک کی سٹرِپ میں 20گولیاں موجود ہوتی ہیں ۔
ایشیافارما ملائشیا برآمدی مقصد کے تحت ایک پروڈکٹ Turanabolic تیار کرتی ہے ۔ یہ 10ملی گرام کی گولیوں کی شکل میں آتی ہے اور 10گولیوں پر مشتمل سٹرپس میں پیک کی جاتی ہے (جب کہ ہر باکس میں 10سٹرِپس موجود ہوتی ہیں)۔
الفا فارما انڈیا برآمدی مقصد کے تحت ایک پروڈکٹ Turanabol تیار کرتی ہے ۔ یہ 10ملی گرام کی گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے اور ایک سٹرپ میں 10 گولیاں موجود ہوتی ہیں
1 Doerner G and Schubert A. Proc. Intern. Congr. Hormonal Steroids, Milan 1962, Excerpta Med. Intern. Congr. Ser. No. 51,210.
2 Congenit Heart Dis. 2016 Jun 3. Use of Oxandrolone to Promote Growth in Neonates following Surgery for Complex Congenital Heart Disease: An Open-Label Pilot Trial. Burch PT, Spigarelli MG et al.
