اورانا بو ل   (آکسی میسٹیرون)

وضاحت/تفصیل:

آکسی میسٹیرون منہ کے راستے استعمال ہونے والا ایک طاقت ور اینابولک سٹیرائیڈ ہے جو ٹیسٹوسٹیرون سے اخذ کیا گیا۔ ساخت کے لحاظ سے 4۔ ہائیڈراکسی ٹیسٹوسٹیرون سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے اور اس سے اس کا فرق صرف C-17الفا میتھائل گروپ کا ہے جو اسے منہ کے راستے استعمال ہونے کے قابل بناتا ہے ۔ اپنی نان میتھائلیٹڈ شکل کی طرح ، آکسی میسٹیرون پٹھوں کے ٹشوز میں خالص نشونما کا سبب بننے والا ایک موثر سٹیرائیڈ ہے  جس کی اینڈروجینک خصوصیت یا اوسط درجہ کی ہے ۔ اس کی کوئی ایسٹروجینک یا پروجیسٹیشنل سرگرمی نہیں ہے  اور عورتوں کے جنسی ہارمونز سے متعلق کوئی واضح مضر اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت دکھائی نہیں دیتی۔ منہ کے راستے استعمال ہونے والے سٹیرائیڈز میں سے Oxymesterone ایک شفاف دوا ہے : طاقت ور، نان ایروماٹائزایبل اور بنیادی طور پر اینابولک خصوصیت کی حامل ۔ لیبارٹری کے معیاری تجربات کے مطابق آکسی میسٹیرون میتھائل ٹیسٹوسٹیرون کی نسبت تین گنا زیادہ اینابولک ہے جب کی اس کی اینڈروجینیسٹی اس کے مقابلے میں نصف ہے۔ میتھائل ٹیسٹوسٹیرون سے قریبی موازنہ جو کہ ساخت کے لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے لیکن  ان کے اثرات میں فرق کی وجہ سے عملی طور پر درست ثابت نہیں ہوتا۔ ان میں فرق اتنا ہی زیادہ ہے جتنا کہ  ان کے استعمالات میں فرق ہے کیوں کہ میتھائل ٹیسٹوسٹیرون تربیت کے اس مرحلے کے دوران استعمال ہوتا ہے جب پٹھوں کے حجم میں اضافہ مقصود ہو جب کہ آکسی میسٹیرون کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب پٹھوں کی بناوٹ میں بہتری لانا مقصود ہو۔

پس منظر:

آکسی میسٹیرون کو پہلی بار 1956میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ۔ 1 1960 کی دہائی کی ابتدا میں اٹلی کی کمپنی Societa Farmaceutici کی جانب سے اسے دوا کی شکل دی گئی۔ اس کمپنی نے تین ممالک جن میں برطانیہ ، امریکہ اور اٹلی شامل ہے ، میں اپنے مرکب  (کی تیاری ، فروخت، تقسیم وغیرہ سے متعلق ) حقوق محفوظ کرنے کے لیے درخواست دائر کی۔ 2اٹلی اور سپین میں تجارتی نام Oranabolاور جاپان ، برطانیہ اور نیدرلینڈ جیسے ممالک میں Anamidol, Balnimax, Sanabolاور Theranabol کے تجارتی ناموں کے ساتھ اس مرکب نے نسخہ جاتی دوا کے طور پر محدود طبی استعمالات دیکھے ۔ اس طرح آکسی میسٹیرون نے تجارتی پیمانے پر بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی اور اب سے تقریباً تین دہائیاں پہلے پوری دنیا میں نسخہ جاتی دوا کے طور پر عدم دستیاب ہے ۔ امریکہ میں یہ کبھی بھی نسخہ جاتی دوا کے طورپر متعارف نہیں ہوا۔

پچھلے کئی سالوں کے چند امریکی کھلاڑیوں نے اس مبہم اینابولک سٹیرائیڈ کے استعمال کا تجربہ کیا جب کہ حالیہ سالوں میں نہایت کم کھلاڑیوں کی طرف سے استعمال کیا گیا ہے ۔

1990 کی دہائی تک آکسی میسٹیرون ایک بھولی بسری داستان بن چکا تھا۔ اس سارے عرصہ کے دوران میڈیکل لٹریچر میں اس کے استعمال کا بہت کم ذکر کیا گیا ہے ۔ 1993میں اس مونسنٹس ہاسپیٹل کے شعبہ کلینیکل فارماکالوجی اینڈ ٹاکسی کالوجی کی طرف سے ایک رپورٹ میں کیا گیا جس میں دو نوجوان فٹ بال کھلاڑیوں کا ذکر تھا ج1988 اور 1990میں دل کا عارضہ لاحق ہونے سے جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ دونوں کھلاڑی جن کی خون کی نالیوں میں کوئی رکاوٹ نہ پائی گئی محض 18اور24سال کی عمر کے تھے،3 کی موت معمول کے تربیتی سیشنز کے دوران ہوئی ۔ اگرچہ یہ آسٹریلیا میں فروخت کے لیے کبھی فراہم نہیں کیا گیا اور 1988 سے کافی عرصہ پہلے یہ عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ سے ختم کردیا گیا تھا لیکن اس کے بعد یہ (آکسی میسٹیرون) مردوں کے پوسٹ مارٹم کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔ اس دوا اور ان کھلاڑیوں کی موت کے درمیان کوئی حتمی ربط قائم نہیں کیا جاسکا تھا اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا گیا تھا۔ آج آکسی میسٹیرون نسخہ جاتی دوا کے طورپر پوری دنیا میں عدم دستیاب ہے۔

رکب کفراہمی :

آکسی میسٹیرون اب نسخہ جاتی دوا کے طور پر دستیاب نہیں ہے ۔

اساختی خصوصیات:

آکسی میسٹیرون دراصل ٹیسٹوسٹیرون کی ترمیم شدہ شکل ہے ۔ درج ذیل بنیادوں پر یہ اس سے مختلف ہے: (1 کاربن 17الفا پر میتھائل گروپ کا اضافہ جو اسے منہ کے راستے استعمال کرنےپر محفوظ رکھتا ہے اور (2کاربن نمبر 4پر ہائیڈراکسل گروپ کا اضافہ جو سٹیرائیڈ کی ایروماٹائزیشن کے عمل کور وکتا ہے اور اس کی اینڈروجینیسٹی میں کمی لاتا ہے ۔

(ایسٹروجینک ) مضر اثرات:۔

جسم آکسی میسٹیرون کی ایروماٹائزیشن نہیں کرتا اور یہ زیادہ ایسٹروجینک خصوصیات کا حامل نہیں ہے ۔ اس سٹیرائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے اینٹی ایسٹروجن استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیوں کہ حساس افراد میں بھی گائینیکو میسٹیا (چھاتی کا بڑھ جانا) کا مسئلہ سامنے نہیں آتا۔ چونکہ (خلیات) میں پانی کے جمع رہنے کی اہم وجہ ایسٹروجن ہے  ، یہ سٹیرائیڈ (آکسینڈرولون) اس کے برعکس پٹھوں کے خالص حجم میں اضافہ کرتا ہے اور بناوٹ میں خوبصورتی لاتا ہے اور زیر جلد اضافی مائع کے جمع ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ اس لیے  یہ سٹیرائیڈ تربیت /ورزش کے اس مرحلہ کے دوران موزوں ہوتا ہے جب پانی اور چربی کے جمع ہونے جیسے مسائل باعث تشویش ہوں۔

ذکرنوٹ فرمائیں کہ جب 4ہائیڈراکسل گروپ کو ٹیسٹوسٹیرون میں شامل کیا جاتا ہے (جیسا کہ ہائیڈراکسی ٹیسٹوسٹیرون میں) تو اس کے نتیجے میں ایروماٹیز انزائم کی سرگرمی کو روکنے والا ایک خود کُش مرکب وجود میں آتا ہے جو سیرم کے ایسٹروجن لیول میں کافی حد تک کمی کا سبب بنتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ آیا یہ خصوصیت   نیو ساؤتھ ویلز میں واقع سینٹ

Oranabol (میتھائل ہائیڈراکسی ٹیسٹوسٹیرون ) میں بھی ہے یا نہیں کیوں کہ اس بارے میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی ۔ اس کا نان ایسٹروجینک اورنان پروجیسٹیشنل پروفائل کم ازکم اسے پٹھوں کی کثافت اور کی بناوٹ میں بہتری لانے والے سٹیرائیڈ کے طورپر سامنے لاتا ہے قطع نظر اس سے کہ اس میں ایروماٹیز انزائم کی سرگرمی کو روکنے کی صلاحیت بھی موجود ہوسکتی ہے ۔

(اینڈروجینک )مضراثرات

اگرچہ اسے اینابولک سٹیرائیڈ تصور کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس کے استعمال سے اینڈروجینک مضر اثرات سامنے آنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ ان میں جلد کی چکناہٹ میں اضافہ ، کیل مہاسے اور جسم /چہرے پر بالوں کی نشونما کا ہونا شامل ہیں ۔مجوزہ مقدار سے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے ان مضراثرات کے سامنے آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز مردوں میں گنجے پَن کے عوامل میں بگاڑ کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔  عورتوں کو اضافی طور پر اینابولک/اینڈڑوجینک سٹیرائیڈز کی وجہ سے   ممکنہ مردانہ خصوصیات جیسے مضر اثرات  کے پیدا ہونے کے امکانات کے بارے میں بھی متنبہ کیا جاتا ہے ۔ ان میں آواز کا بھاری پن، ماہواری میں بے قاعدگیاں ، جِلد کی ساخت میں تبدیلیاں ، چہرے پر بالوں کا اگنا اور کلائٹورس کا بڑھ جانا شامل ہیں ۔نوٹ فرمائیں کہ آکسی میسٹیرون کی 5۔الفا ریڈکٹیز انزائم کی مدد سے زیادہ توڑ پھوڑ نہیں ہوتی اس لیے فیناسٹیرائیڈ یا ڈیوٹاسٹیرائیڈ کے استعمال سے اس کی اینڈروجینسٹی میں زیادہ فرق نہیں آتا۔  

مضراثرات (جگر کا زہریلاپن):۔

آکسی میسٹیرون C17۔الفا الکائلیٹڈ مرکب ہے ۔ یہ تبدیلی اسے جگر کی طرف سے غیر فعال ہونے سے بچاتی ہے جس کے بعد اسے منہ کے راستے استعمال کرنے پر اس کی بہت بڑی مقدار خون تک پہنچ جاتی ہے ۔ C-17الفا الکائلیٹڈاینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز جگر کے زہریلے پن کا باعث بن سکتے ہیں ۔ زیادہ عرصہ تک یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی صورت میں جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ کچھ صورتوں میں مہلک عارضہ جات سامنے آسکتے ہیں۔ تجویز یہی کیا جاتا ہے کہ اس سٹیرائیڈ کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران وقتاً فوقتاًً ڈاکٹر کے پاس جایا جائے تاکہ جگر کے فعل اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا جاتا رہے۔ C-17الفا الکائلیٹڈ سٹیرائیڈز کے استعمال کا دورانیہ عام طور پر 6-8ہفتوں تک محدود ہوتا ہے تاکہ جگر پر تناؤ سے بچا جاسکے۔ نوٹ فرمائیں کہ تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ یہ مرکب میتھینڈرلون اور نار ایتھینڈرولون کی نسبت جگر پر کم تناؤ کا باعث بنتے ہیں جس کی نشاندہی بروموسلفا لین (BSP) کی جسم میں برقرار رہنے والی مقدار سے کی جاتی ہے۔

جگر کے زہریلے پن کا باعث بننے والے اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کواستعمال کرتے ہوئے  لِور سٹیبل، لِو۔52 یا ایسنشیل فورٹ جیسے اجزاء جو جگر کے زہریلے پن کو ختم کرتے ہیں ، کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے ۔

(نظام دورانِ خون پر مضر اثرات):۔

اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز سیرم میں موجود کولیسٹرول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ان مضر اثرات میں HDL(اچھے) کولیسٹرول لیول میں کمی کا سبب بننا اور LDL(بُرے) کولیسٹرول میں اضافہ کا سبب بننا شامل ہیں جس کے نتیجے میں HDLاور LDL کے توازن میں اس طرح کی تبدیلی آتی ہے جو صلابت شریان (یعنی خون کی نالیوں میں لوتھڑے بننے کے امکانات) میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔ سیرم میں لپڈز کی مقدار پر اینابولک/اینڈروجینک سٹیرائیڈز کا اثر اس کی استعمال ہونے والی مقدار، استعمال کے راستہ  (منہ کے راستے یا انجکشن کی شکل میں)، سٹیرائیڈ کی قسم (ایروماٹائزیبل یا نان ایروماٹائزیبل) اور جگر کی طر ف سے کی جانے والی توڑ پھوڑ کے خلاف مزاحمت پر منحصر ہوتا ہے ۔جگر کی طرف سے توڑ پھوڑ کے خلاف اپنی ساختی مزاحمت، نان ایروماٹائزایبل نوعیت اور طریقہ استعمال کی وجہ سے آکسی میسٹیرون جگر کی طرف سے کولیسٹرول پر قابو پانے  کی صلاحیت پر بہت

زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز بلڈ پریشر اور  ٹرائی گلائسرائیڈز پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یہ شریانوں کی اندرونی تہہ کے پھیلاؤ میں کمی لاتے ہیں اور دل کے بائیں وینٹریکل کے حجم میں اضافہ میں معاونت کرتے ہیں ۔ یہ سب عوامل نظام دوران خون کے عارضہ جات اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں ممکنہ طور پر اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔

نظام دورانِ خون پر تناؤ میں کمی لانے کے لیے یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ نظام دورانِ خون کے لیے مفید اور فعال ورزش پروگرام برقرار رکھا جائے اور اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈز(AAS) کے استعمال کے پورے دورانیہ کے دوران سیر شدہ روغنیات، کولیسٹرول اور سادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال  کم کردیا جائے۔ علاوہ ازیں مچھلی کا تیل (4گرام فی یوم) اور قدرتی کولیسٹرول /اینٹی آکسیڈنٹ فارمولا جیسا کہ لپڈ سٹیبل یا اس سے ملتی جلتی پروڈکٹ کا استعمال بھی تجویز کیا جاتا ہے ۔

مضر اثرات(قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار میں کمی) :۔                                     

جب کسی بھی اینابولک /اینڈروجینک سٹیرائیڈ کو پٹھوں کی نشونما کے لیے ضروری موزوں مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے وہ ٹیسٹوسٹیرون کی قدرتی پیداوار کو روک دیں گے۔ ۔ ٹیسٹوسٹیرون کو تحریک دینے والی ادویات کےاستعمال کے بغیر 1سے 4ماہ کے اندر اس کا لیول نارمل سطح پر آجانا چاہیئے۔ نوٹ فرمائیں کہ سٹیرائیڈز کےبے جا /غلط استعمال کے نتیجے میں جنسی ہارمونز کی کمی واقع ہوسکتی ہے جس کے لیے علاج معالجہ ضروری ہوجاتا ہے ۔

مذکورہ بالا مضر اثرات حتمی نہیں ہیں ۔ سٹیرائیڈز کے ممکنہ مضر اثرات پر مزید تفصیل کے لیے اس کتا ب کا سیکشن “سٹیرائیڈز کے مضر اثرات” ملاحظہ فرمائیں۔

استعمال (عمومی):۔

سٹیرائیڈز کو تجویز کرنے سے متعلق ہدایات  کے مطابق منہ کے راستے  استعمال کیے جانے والے سٹیرائیڈز کو کھانے کے ساتھ یا اس کے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ جسم میں اس کی دستیابی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ تاہم 2016میں نوزائیدہ بچوں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئے کہ اگر آکسینڈرولون کو براہ راست روغنیات(MCT Oil) میں حل کردیا جائے تو اس کے انجذاب میں کافی حدتک بہتری آتی ہے۔

4

اگر خوراک میں روغنیات کی موزوں مقدار موجود ہو تو اس سٹیرائیڈ کو کھانے کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

استعمال (مردوں میں):

طب میں آکسی میسٹیرون کا طبی استعمال یومیہ 20تا40ملی گرام تھی ۔ کھلاڑیوں کی طرف سے منہ کے راستے استعمال ہونے والی موثر خوراک کی حد 20تا40ملی گرام ہے جسے 6تا8 ہفتوں سے زائد عرصہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا تاکہ جگر پر زہریلے اثرات میں کمی لائی جاسکے۔ یہ مقدار طاقت میں اضافہ، چربی میں کمی ، پٹھوں کی بناوٹ اور پٹھوں کے خالص حجم میں اضافہ کے لیے  کافی ہے ۔ یہ مرکب دیگر سٹیرائیڈز کے ساتھ اشتراک میں بہترین طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے خاص طور پر انجکشن کی شکل میں استعمال کیے جانے والے ٹیسٹوسٹیرون سِپیونیٹ/ایننتھیٹ یا Equipoise® کے 200تا400ملی گرام فی ہفتہ کے ساتھ اشتراک کرکے تربیت کے اس مرحلہ میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں پٹھوں کے حجم میں اضافہ مقصود ہو۔ علاوہ ازیں معمولی اینابولک سرگرمی کے حامل مرکب DecaDurabolin® یا Primobolan® کے ساتھ اشتراک کرکے اسے پٹھوں کی بناوٹ اور شباہت میں بہتری لا نے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ تمام اشتراک شاندار نتائج کے حامل ہیں اور آکسی میسٹیرون کی وجہ سے ہونے والے جگر کے زہریلے پن میں اضافہ کا سبب نہیں بنتے۔

استعمال (خواتین میں):

طب میں آکسی میسٹیرون کا طبی استعمال یومیہ 20تا40ملی گرام تھی۔ خواتین کھلاڑیوں کی طرف سے 10ملی 

گرام یومیہ استعمال کرنے پر قابل قدر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے استعمال کا دورانیہ 4ہفتوں سے تجاوز نہیں کرتا۔ آکسی میسٹیرون جیسے طاقت ور ہارمون کو استعمال کرنے کی صورت میں مردانہ خصوصیات جیسے مضر اثرات کے سامنے آنے کے امکانات پھر بھی ہوتے ہیں خاص طور پر جب زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے ۔ ان مضر اثرات کو نہایت  احتیاط کے ساتھ دیکھتے رہنا چاہیئے ۔

دستیابی :

 یہ مرکب پچھلے تیس سال کے عرصہ کے دوران نسخہ جاتی دوا کے طور پر فروخت نہیں کیا گیا اور اب بھی عدم دستیاب ہے۔  

1 Camerino B. et al. Farmaco (Pavia) ediz sci. 11 (1956):586.

2 U.S. Patent # 3,060,201. 4-hydroxy-17alpha-methyl-3-keto-delta4steroids of androstane and 19-nor-androstane series and esters therof. Camerino, Patelli, Sala. Oct 23, 1962.

3 Anabolic steroid abuse and cardiac death. Kennedy MC, Lawrence C. Med J Aust. 1993 Mar 1;158(5):346-8.

4 Congenit Heart Dis. 2016 Jun 3. Use of Oxandrolone to Promote Growth in Neonates following Surgery for Complex Congenital Heart Disease: An Open-Label Pilot Trial. Burch PT, Spigarelli MG et al.